حدیث نمبر: 10859
١٠٨٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت حمادًا عن الرجل يكون عليه الدين وفي (يده) (١) (مال) (٢) أيزكيه؟ قال: نعم (٣) عليه (زكاته) (٤)، ألا ترى أنه ضامن.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص پر کچھ قرض ہے اور اس کے پاس کچھ مال بھی موجود ہے کیا وہ زکوٰۃ ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر زکوٰۃ ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وہ ضامن ہے، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت ربیعہ سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے بھی حضرت حماد کی طرح جواب ارشاد فرمایا۔

حواشی
(١) في [ص، ز]: (يديه) وفي [ح]: (رواته) وفي [أ]: (روايه).
(٢) في [ب، ك، ص، ز]: (ماله).
(٣) في [ص] زيادة: (و).
(٤) في [ص]: (زكاه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10859
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10859، ترقيم محمد عوامة 10659)