حدیث نمبر: 10826
١٠٨٢٦ - حدثنا (معاذ) (١) قال: حدثنا حاتم بن أبي صغيرة أبو يونس قال: (حدثنا) (٢) (رياح) (٣) (بن) (٤) عبيدة عن (قزعة) (٥) قال: قلت لابن عمر: إن لي مالًا فما تأمرني؟ إلى (من) (٦) أدفع زكاته؟ قال: ادفعها إلى (ولي) (٧) القوم -يعني الأمراء- ولكن في مالك حق سوى ذلك يا (قزعة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت فرمایا کہ میرے پاس کچھ مال ہے آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں زکوٰۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا قوم کے امراء (امیر) کو۔ لیکن اے قزعہ تیرے مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں۔

حواشی
(١) في [ص]: (مغاذ) وفي [ب]: بياض.
(٢) في [ك]: (نا).
(٣) في [ص، هـ]: (رباح).
(٤) في [أ، ح، ص، ز، هـ] (بن).
(٥) في [ب]: (قرعه).
(٦) في [أ]: (عن).
(٧) في [ب]: (أولى).
(٨) في [ب]: (قرعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10826
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10826، ترقيم محمد عوامة 10628)