مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا في الرجل أخرج زكاة ماله فضاعت باب: کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے اور وہ ضائع (ہلاک) ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے
حدیث نمبر: 10789
١٠٧٨٩ - حدثنا معتمر عن معمر عن حماد في الرجل يبعث بصدقته (فتهلك) (١) قبل أن (تصل) (٢) إلى أهلها قال: هي بمنزلة (رجل) (٣) بعث إلى (غريمه) (٤) بدين (فلم) (٥) يصل إليه (المال) (٦) حتى هلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی زکوٰۃ نکال کر مصرف پر خرچ کرنے سے پہلے ہی وہ ہلاک ہوجائے تو یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح آدمی پیسے اپنے قرض خواہ کی طرف بھیجے لیکن وہ اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہوجائیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (فيهلك).
(٢) في [ص]: (يصل).
(٣) في [ب]: (إن).
(٤) في [أ، ح]: (عزيمه) وفي [ص]: (غريمة).
(٥) في [ب]: (ثم لم).
(٦) زيادة من [ك، ص، ز]: (المال).