مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
(قوله تعالى): ﴿وآتوا حقه يوم حصاده﴾ وما جاء فيه باب: یہ باب ہے اللہ کے ارشاد {وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ} کی تفسیر میں
١٠٧٧٦ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن مجاهد في قوله [(تعالى) (١): ﴿وَآتُوا حَقَّهُ] (٢) يَوْمَ حَصَادِهِ﴾، قال: إذا حصدته فحضرك المساكين طرحت لهم منه (وإذا طيبته طرحت لهم منه) (٣) وإذا كدسته طرحت لهم منه ⦗٣٢٣⦘ (وإذا) (٤) نقيته وأخذت في كيله (حثوت) (٥) لهم منه، وإذا علمت كيله عزلت زكاته وإذا أخذت في (جذاذ) (٦) (النخل) (٧) طرحت لهم من (التفاريق) (٨) والتمر وإذا أخذت في كيله (حثوت) (٩) لهم منه وإذا (علمت) (١٠) كيله عزلت زكاته (١١).حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد { وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ } جب تو کھیتی کاٹے اور تیرے پاس مسکین آئیں تو ان کیلئے بھی کچھ ڈالدے اور جب تو جمع کرے (کھیتی وغیرہ کو) تو ان کیلئے کچھ ڈال دے اور جب تو اس کو ڈھیر لگائے تو کچھ ان کے لیے ڈال دے اور جب تو اس کو صاف کرے اور کیل کرنے لگے تو کچھ (بھوسہ وغیرہ) ان کے لیے ڈال دے۔ اور جب تو کیل کرلے اور معلوم ہوجائے کہ کتنا ہے تو زکوٰۃ ادا کر اور جب تو کھجور کے درخت سے کھجور توڑے تو کچھ ہلکی اور پکی کھجوریں ان کیلئے چھوڑ دے اور جب ان کو کیل کرنے لگے تب بھی کچھ ان کیلئے ڈال دے اور جب اس کا وزن معلوم ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کر۔ (١٠٥٨٠ م) حضرت ضحاک سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس کی زکوٰۃ کا حساب اس فصل کے کیل کرنے کے دن ہوگا۔