حدیث نمبر: 10570
١٠٥٧٠ - حدثنا ابن علية عن (حباب) (١) بن (المختار) (٢) عن عمرو بن سعيد أن سائلًا سأل حميد بن عبد الرحمن، فقال له حميد: إنك ضال -وكأنه عبادي- فأمر له بشيء، فاستقله (وأبى أن يقبله) (٣). فقال له حميد: ما شئت؛ إن قبلته وإلا أعطيناه غيرك، ثم قال: كان (يقال) (٤) ردوا السائل (و) (٥) لو بمثل رأس القطاة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت حمید بن عبد الرحمن سے کچھ مانگا، حضرت حمید نے اس سے فرمایا کہ تو گمراہ لگتا ہے اور تو مجھے نصرانی معلوم ہوتا ہے۔ (عرب کا قبیلہ جو گمراہ ہو کر نصرانیت اختیار کرلے ان کو عبادی کہا جاتا ہے) پھر اس کو کچھ دینے کا حکم فرمایا تو اس نے اسکو کم سمجھا اور لینے سے انکار کردیا۔ حضرت حمید نے فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو قبول کرلے ورنہ ہم کسی اور کو دے دیں گے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا سائل کو عطاء کرو (دیدو) اگرچہ پرندہ (چکور) کا معمولی سر ہی کیوں نہ ہو۔

حواشی
(١) في [ب]: (خبان)، وفي [ح، ص]: (حباب) وفي [أ، هـ]: (حبان).
(٢) في [ح، هـ]: (يسار).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) سقط من: [ح].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10570، ترقيم محمد عوامة 10384)