حدیث نمبر: 10537
١٠٥٣٧ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن نافع عن ابن عمر قال: (١) زكاة أموالكم (حولا) (٢) إلى حول، (وما كان) (٣) (من دين ثقة فزكه) (٤) (وإن) (٥) كان من دين (مظنون) (٦) فلا زكاة فيه حتى يقضيه صاحبه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے اموال پر زکوٰۃ سال مکمل ہونے کے بعد ہے۔ پس جو قرض ایسا ہو کہ اس کا ملنا یقینی ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ ادا کر دینی چاہئے اور جس قرض کے بارے میں شک ہو اس پر زکوٰۃ ادا نہ کرے جب تک مقروض قرض ادا نہ کر دے۔
حواشی
(١) في [هـ] زيادة: (زكوا).
(٢) في [ز]: (حول).
(٣) في [ز]: (فما كان).
(٤) في [ح]: بياض.
(٥) في [ح]: (ما).
(٦) في [ص]: (ظنون).