حدیث نمبر: 10479
١٠٤٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: كانت الصدقة تدفع إلى النبي (ﷺ) ومن أمر به، وإلى أبي بكر ومن أمر به، وإلى عمر ومن أمر به، وإلى عثمان ومن أمر به، فلما قتل عثمان اختلفوا؛ فمنهم من رأى أن يدفعها إليهم، ومنهم من رأى أن يقسمها هو، قال محمد: فليتق اللَّه من اختار أن يقسمها هو، ولا يكون يعيب عليهم شيئا يأتي مثل الذي (يعيب) (١) عليهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

محمد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی جاتی تھی اور جس کو آپ نے وصول کرنے کا حکم دیا تھا اس کو پھر حضرت ابوبکر کو اور جن کو انہوں نے حکم دیا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عمر کو اور جن کو انہوں نے حکم فرمایا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عثمان کو اور جن کو آپ نے حکم فرمایا تھا ان کو، جب حضرت عثمان شہید ہوگئے تو لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ اب بھی ان کو دی جائے (امراء کو) اور بعض حضرات کی رائے تھی کہ خود تقسیم کی جائے۔ محمد نے فرمایا : جو لوگ زکوٰۃ خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور نہ عیب لگائیں ان پر کسی چیز کا مثل اس کے جو وہ عیب وہ ان پر لگاتے ہیں۔

حواشی
(١) في [ب، ص]: (يعيد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10479
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10479، ترقيم محمد عوامة 10294)