مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من قال (تدفع) الزكاة إلى السلطان باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ بادشاہ کو دی جائے گی
حدیث نمبر: 10474
١٠٤٧٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن حاتم بن أبي (صغيرة) (١) قال: حدثني (رياح) (٢) بن عبيدة عن قزعة قال: قلت لابن عمر: إن لي مالا فإلى من أدفع زكاته؟ قال: ادفعها إلى هؤلاء القوم: يعني الأمراء، قلت: إذن (يتخذون) (٣) بها ثيابًا وطيبًا قال: و (إن اتخذوا ثيابًا وطيبًا ولكن في مالك) (٤) حق سوى الزكاة يا (قزعة) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : میرے پاس مال ہے میں زکوٰۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس قوم کو یعنی امراء کو (بادشاہوں کو) میں نے عرض کیا پھر تو وہ اس کے کپڑے اور خوشبو بنالیں گے (اور خود استعمال کریں گے) آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کپڑے اور خوشبو بنالیں، اے قزعہ تیرے مال پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔
حواشی
(١) في [ص]: (صعبره).
(٢) في [أ، ب، ص، هـ]: (رباح).
(٣) في [ص]: (تتخذونا).
(٤) في [ح]: بياض.
(٥) في [ح، ص]: (قرعة).