مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من قال (تدفع) الزكاة إلى السلطان باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ بادشاہ کو دی جائے گی
حدیث نمبر: 10472
١٠٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) (بشر) (٢) بن (المفضل) (٣) عن سهيل عن أبيه قال: سألت (سعدًا) (٤) وابن (عمر) (٥) وأبا هريرة و (أبا) (٦) سعيد فقلت: ⦗٢٥٢⦘ [(إن) (٧) لي مالا] (٨) وأنا أريد أن أعطي زكاته، ولا أجد له (موضعا) (٩)، وهؤلاء يصنعون فيها ما (ترون) (١٠)، فقال: كلهم (أمروني) (١١) أن أدفعها إليهم (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہیل سے مروی ہے کہ ان کے والد نے حضرت سعد، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید سے سوال کیا کہ میرے پاس مال ہے اور میں اس کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن میں کوئی جگہ نہیں پا رہا جہاں زکوٰۃ ادا کروں، اور یہ سب لوگ اس میں جو کام کرتے ہیں وہ تو آپ جانتے ہیں۔ آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟ سب حضرات نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو ادا کروں۔
حواشی
(١) في [ص] زيادة: (أبو).
(٢) في [ح]: (شريك).
(٣) في [ز، ك]: (مفضل).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (سعيدًا).
(٥) في [ص]: (عمرو).
(٦) سقط من: [ح].
(٧) في [أ، ب، ز، ك]: (أدرك).
(٨) في [ح]: (أدرك مالي) وفي [ز، ب، أ]: (مالي).
(٩) في [ح]: (بياض).
(١٠) في [ص]: (يرون).
(١١) في [ح، ص، ك]: (أمرني).