حدیث نمبر: 10423
١٠٤٢٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن ابن (أبي) (١) خالد عن (شبيل) (٢) ⦗٢٤١⦘ ابن عوف قال: و (٣) كان أدرك الجاهلية قال: أمر عمر بن الخطاب الناس بالصدقة فقال الناس: يا (أمير) (٤) المؤمنين خيل لنا ورقيق أفرض علينا عشرة (عشرة) (٥) (قال) (٦): أما أنا فلا أفرض (ذلك) (٧) عليكم (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شبیل بن عوف انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم فرمایا : تو لوگوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ھمارے پاس گھوڑے اور غلام بھی ہیں آپ ھمارے لئے ان پر دس دس فرض فرما دیجئے آپ نے فرمایا کہ مں ی تم پر فرض نہیں کرسکتا۔

حواشی
(١) سقط من: [ك، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (سبيل) وفي [ح]: (شيبان) و [ك]: (شبل).
(٣) في [ص، ز] زيادة: (قد).
(٤) في [ك]: (أمر).
(٥) في [ص]: (تعشرة).
(٦) في [هـ]: (فقال).
(٧) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10423
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه ابن سعد ٦/ ١٥٢ وابن حزم ٥/ ٢٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10423، ترقيم محمد عوامة 10239)