مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما يسقى سيحا ويسقى بالدلو: كيف يصدق؟ باب: ’’جس زمین کو جاری پانی (آسمان کی بارش یا چشمہ) سے سیراب کیا یا ڈولوں سے سیراب کیا جائے اس پر زکوٰۃ کس حساب سے فرض ہے‘‘
١٠٣٧٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء إنما يكون (على العين) (١) عامة الزمان، ثم (يحتاج) (٢) إلى البئر في (القطعة) (٣) يسقى بها، ثم (القطعة) (٤)، ثم (يصير) (٥) إلى العين كيف صدقته؟ قال: (العشر) (٦)، (وقال) (٧) يكون ذلك على أكثر ذلك أن يسقى به، إن كان يسقى بالعين أكثر مما يسقى بالدلو ففيه العشر، وإن كان يسقى بالدلو أكثر مما يسقى (بالنجل) (٨) ففيه ⦗٢٢٩⦘ نصف العشر، قلت: هو بمنزلة ذلك، أيضا المال يكون بعلا أو (عثريا) (٩) (عامة) (١٠) (الزمان) (١١) ثم يحتاج إلى (البئر) (١٢)؟ قال: نعم.حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : کسی زمین کو کچھ عرصہ تک جاری (چشمہ وغیرہ) پانی سے سیراب کیا جائے پھر اس کے کسی حصہ کو کنویں کے پانی سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے پھر کسی دوسرے حصے کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے تو اسکی زکوٰۃ کس طرح نکالی جائے گی ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عشر ہے۔ فرمایا کہ جس طریقہ سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہے حکم اسی کے تابع ہوگا کہ اگر ڈول کی بجائے چشمہ کے پانی سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر عشر ہے۔ اور اگر چشمہ کی بجائے ڈول سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر نصف عشر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جس مال کو (زمین) کو کچھ عرصہ اونٹ اور آسمان کی بارش سے سیراب کیا جائے پھر کنویں سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ : جی ہاں۔ ابو زبیر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمیر کو بھی اسی طرح فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے سالم ابن عبد اللہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے عبید کی طرح جواب دیا۔