مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما يسقى سيحا وبالدوالي باب: جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوٰۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
حدیث نمبر: 10358
١٠٣٥٨ - حدثنا ابن علية عن ابن (أبي) (١) (عروبة) (٢) عن قتادة قال: سن رسول اللَّه ﷺ فيما سقت السماء أو سقى (الغيل) (٣) (و) (٤) كان بعلًا العشر [كاملًا وما سقي بالرشاء فنصف العشر] (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو بارش یا جاری چشمہ یا اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے اور حضرت قتادہ کہا کرتے تھے کہ جن پھلوں کو کیل کیا جاتا ہے ان میں عشر یا نصف عشر ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ص]: (عروته).
(٣) في [ص]: (العيل).
(٤) في [ص، ز]: (أو).
(٥) سقط من: [ص].