مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في المرأة ينقطع عنها الدم فيأتيها (زوجها) قبل أن تغتسل باب: کسی عورت کے حیض کا خون بند ہو اور اس کا خاوند غسل سے پہلے اس سے جماع کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1035
١٠٣٥ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عطاء قال: إذا انقطع (عنها) (١) الدم، فأصاب زوجها شبق، (فخاف) (٢) فيه على نفسه؛ فليأمرها (بغسل) (٣) فرجها، ثم يصيب منها إن شاء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ جب حائضہ عورت کا خون رک جائے اور اس کے خاوند کو جماع کی شدید خواہ ہو اور اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو عورت اپنی شرم گاہ کو دھو لے اور اس کا خاوند اس سے جماع کرلے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، خ، ك].
(٢) في [أ، خ، ك]: (يخاف).
(٣) في [ك]: (تغسل): (بالتاء).