حدیث نمبر: 10327
١٠٣٢٧ - حدثنا صفوان بن عيسى عن الحارث بن عبد الرحمن عن منير بن عبد اللَّه عن أبيه عن (سعد) (١) بن أبي (ذباب) (٢) أنه قدم على قومه فقال: لهم في العسل زكاة، فإنه لا خير في مال لا يزكى قال: قالوا (٣): (فكم) (٤) ترى؟ قلت: العشر (قال) (٥): فأخذ منهم العشر فقدم به على عمر (وأخبره بما فيه) (٦) قال: فأخذه عمر وجعله في صدقات المسلمين (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعد بن ابو ذباب اپنی قوم کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا : شہد میں زکوٰۃ ہے اور اس مال میں کوئی خیر نہیں جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی گئی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ قوم والوں نے عرض کیا کہ کتنا ہے ؟ آپ نے فرمایا عشر۔ پھر آپ نے ان سے عشر وصول فرمایا اور وہ لے کر حضرت عمر کی خدمت میں پہنچے اور ان کو اس کے بارے میں بتایا، حضرت عمر نے وہ وصول شدہ عشر ان سے لے کر مسلمانوں کے زکوٰۃ (میں جمع شدہ میں) رکھ لیا۔

حواشی
(١) في [ص]: (سعيد).
(٢) في [أ، ب، ص]: (ذياب).
(٣) في [أ، ب، ص، ك] زيادة: (لى).
(٤) في [ص، ك]: (كم).
(٥) في [أ، ب، ك، ز، ح، ص] زيادة: (قال).
(٦) في [ح]: (بياض).
(٧) مجهول؛ لجهالة والد منير، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٦٨٥)، والطبراني (٥٤٥٨)، وأبو عبيد في الأموال (١٤٨٧)، وابن زنجويه (٢٠١٧)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٧١ و ٤٦ و ٤/ ٤٥، والعقيلي ٢/ ٣٢٠، والبزار (٨٧٨/ كشف) والبيهقي ٤/ ١٢٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10327
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10327، ترقيم محمد عوامة 10148)