حدیث نمبر: 10245
١٠٢٤٥ - حدثنا عباد بن عوام عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن سالم عن أبيه قال: كتب النبي ﷺ كتاب الصدقة، فقرنه بسيفه أو قال بوصيته، فلم يخرجه إلى عماله حتى قبض (٢)، عمل به أبو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر قال: "في الغنم في ثلاثمائة (شاة) (٣) ثلاث (شياه) (٤) فإن زادت ففي كل مائة (شاة) (٥) وليس فيها شيء (حتى) (٦) (تبلغ) (٧) مائة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکام تحریر فرمائے اور ان کو اپنی تلوار کے ساتھ رکھ دیا یا (راوی کو شک ہے) وصیت کے ساتھ، اور آپ نے اسکو عمال کی طرف نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دار فانی سے کوچ کر گئے۔ پھر اس پر حضرت صدیق اکبر مرتے دم تک عمل پیرا رہے، پھر حضرت عمر اس پہ عمل پیرا رہے، اس میں بکریوں کی زکوٰۃ سے متعلق تحریر تھا کہ تین سو بکریوں پہ تین بکری زکوٰۃ ہیں، اور اگر بکریاں اس سے زائد ہوجائیں تو پھر سو بکریوں پہ ایک بکری ادا کرے گا۔ اور اگر بکریاں اس سے زائد ہوجائیں تو پھر سو بکریوں پہ ایک بکری ادا کرے گا۔ اس پر سو سے کم پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [هـ]: (ثم).
(٣) في [أ، ب، ح، ز، ك] سقط: (شاة).
(٤) في [ز]: (شاه).
(٥) سقط من: [أ، ب، خ].
(٦) سقط من: [ح].
(٧) في [ص]: (يبلغ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية سفيان عن الزهري ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وابن ماجه (١٧٩٨)، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والحاكم ١/ ٣٩٢، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، والبيهقي ٤/ ٨٨، والدارمي ١/ ٣٨٢، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٨٢٠)، وابن عدي ٣/ ١١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10245، ترقيم محمد عوامة 10071)