حدیث نمبر: 10194
١٠١٩٤ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عكرمة بن خالد قال: استعملت على صدقات عك، فلقيت أشياخًا ممن صدق على عهد رسول اللَّه ﷺ، فاختلفوا علي، فمنهم من قال: اجعلها مثل صدقة الإبل، ومنهم من قال: في ثلاثين (بقرة) (١) (٢) تبيع (٣) أو تبيعة: جذع أو جذعة، وفي أربعين مسنة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ مجھے زکوٰۃ کی وصول یابی کا فریضہ سونپا گیا، میں ان بزرگوں سے ملا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ ان حضرات نے اختلاف کیا، بعض نے فرمایا کہ اونٹوں کی زکوٰۃ کے مثل وصول کرو، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ تیس گائے پر ایک تبیع وصول کرو اور بعض نے کہا چالیس گائے پر ایک مسنہ وصول کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ح، ك، ص]: سقطت.
(٢) في [أ، ب] زيادة: (ومنهم من قال).
(٣) في [ص، ز] ورد: (ومنهم من قال في أربعين بقرة مسنة) وفي [ز] تكرار: (بقرة).
(٤) مجهول.