حدیث نمبر: 10165
١٠١٦٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن يحيى بن (سعيد) (٢) قال: بلغنا (أن) (٣) سالم بن عبد اللَّه (٤) كان يقول: (عندنا كتاب) (٥) عمر بن الخطاب في صدقة الإبل فلم يسألنا عنه أحد حتى قدم علينا عمر بن عبد العزيز فأرسلنا به إليه فكان (الكتاب) (٦) الذي كتب عمر بن عبد العزيز حين بعثهم يصدقون: أن ليس في الإبل صدقة حتى (تبلغ) (٧) خمسًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت سالم بن عبد اللہ فرماتے تھے کہ ہمارے پاس اونٹوں کی زکوٰۃ سے متعلق حضرت عمر بن خطاب کا لکھا ہوا فرمان موجود ہے، ہم سے کسی شخص نے بھی سوال نہیں کیا یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا دور آگیا۔ تو ہم نے وہ مکتوب ان کو ارسال کردیا تو وہ مکتوب جس میں لکھا تھا حضرت عمر بن عبد العزیز نے جب ان کو زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا کہ ” اونٹوں پر تب تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ وہ پانچ نہ ہوجائیں۔

حواشی
(١) في [ح]: بياض.
(٢) في [ص]: (شعيب).
(٣) في [ص]: (عن).
(٤) في [أ، ب، ص، ز، ك] زيادة: (قال).
(٥) في [ح]: بياض.
(٦) سقط من: [ز]، وفي [هـ]: (في الكتاب).
(٧) في [أ، هـ]: (يبلغ).
(٨) منقطع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10165، ترقيم محمد عوامة 9994)