مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في الرجل (تكون) عنده مائة درهم وعشرة دنانير باب: اگر کسی کے پاس سو درہم اور دس دینار ہوں ان پر زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 10149
١٠١٤٩ - حدثنا إسماعيل بن (عياش) (١) (عن) (٢) (عبيد) (٣) اللَّه (بن عبيد اللَّه) (٤) قال: قلت لمكحول: يا أبا عبد اللَّه إن لي سيفًا فيه خمسون ومائة درهم فهل عليّ فيه زكاة، قال: أضف إليه ما كان لك من ذهب وفضة، فإذا بلغ مائتي درهم ذهب وفضة فعليك فيه الزكاة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مکحول سے سوال کیا کہ اے ابو عبد اللہ میرے پاس ایک تلوار ہے اس میں ایک سو پچاس درہم ہیں کہ کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ ملا لے اگر تیرے پاس سونا یا چاندی ہو، اور جب وہ دو سو درہم سونے کے اور چاندی کے ہوجائیں تب ان میں زکوٰۃ ہے۔
حواشی
(١) في [ص]: (عباس).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ب]: (عبد).
(٤) سقط من: [هـ]، وفي [أ، ب، ط]: (عبد اللَّه].