مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا في منع الزكاة باب: ترک زکوٰۃ پر جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان
١٠١٠١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا ثابت (بن) (١) قيس عن خارجة بن إسحاق عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد اللَّه عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سيأتيكم ركب مبغضون، فإن جاؤوكم فرحبوا بهم وخلوا بينهم وبين ما ⦗١٥٣⦘ (يبغون) (٢)، فإن عدلوا فلأنفسهم، وإن ظلموا فعليهم، وأرضوهم (فإن تمام زكاتكم رضاهم) (٣) وليدعوا لكم" (٤).حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تمہارے پاس ناپسندیدہ سوار آئیں گے، لیکن جب وہ تمہارے پاس (زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے) آئیں تو تم انکو خوش آمدید کہو اور ان کیلئے کشادگی کرو، اور چھوڑ دو ان کے درمائن وہ چیز جس میں وہ زیادتی کریں، پس اگر وہ انصاف کریں گے تو اپنے نفسوں کیلئے اور اگر ظلم کریں تو انکا وبال خود ان پر ہے اور تمہیں چاہئے کہ تم ان کو راضی کردو بیشک تمہاری زکوٰۃ کا اتمام (مکمل ہونا) ان کی رضا مندی ہے اور ان کو بھی چاہئے کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں۔