حدیث نمبر: 10101
١٠١٠١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا ثابت (بن) (١) قيس عن خارجة بن إسحاق عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد اللَّه عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سيأتيكم ركب مبغضون، فإن جاؤوكم فرحبوا بهم وخلوا بينهم وبين ما ⦗١٥٣⦘ (يبغون) (٢)، فإن عدلوا فلأنفسهم، وإن ظلموا فعليهم، وأرضوهم (فإن تمام زكاتكم رضاهم) (٣) وليدعوا لكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تمہارے پاس ناپسندیدہ سوار آئیں گے، لیکن جب وہ تمہارے پاس (زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے) آئیں تو تم انکو خوش آمدید کہو اور ان کیلئے کشادگی کرو، اور چھوڑ دو ان کے درمائن وہ چیز جس میں وہ زیادتی کریں، پس اگر وہ انصاف کریں گے تو اپنے نفسوں کیلئے اور اگر ظلم کریں تو انکا وبال خود ان پر ہے اور تمہیں چاہئے کہ تم ان کو راضی کردو بیشک تمہاری زکوٰۃ کا اتمام (مکمل ہونا) ان کی رضا مندی ہے اور ان کو بھی چاہئے کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں۔

حواشی
(١) في [أ، ص، ز، ك، هـ]: (عن) وانظر: المطالب العالية (٩٠٥).
(٢) في [ص]: (يبغضون).
(٣) في [ح]: (بياض).
(٤) مجهول؛ لجهالة خارجة بن إسحاق، أخرجه البزار كما في مجمع الزوائد (٣/ ٨٠)، وروى من طريقه صخر بن إسحاق عن عبد الرحمن بن جابر بن عتيك أخرجه أبو داود (١٥٨٨)، والبيهقي (٤/ ١١٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10101
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10101، ترقيم محمد عوامة 9932)