مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا في منع الزكاة باب: ترک زکوٰۃ پر جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 10099
١٠٠٩٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي عثمان عن أبي هريرة قال: ⦗١٥٢⦘ (إذا) (١) (جاءك) (٢) المصدق] (٣) فقال: أخرج (صدقتك فأخرجها) (٤) (فإن) (٥) قبل فيها ونعمت، فإن (أبي) (٦) (قوله) (٧) ظهرك وقيل: اللهم (إني) (٨) (احتسب) (٩) عندك (ما يأخذ مني) (١٠) ولا (تلعنه) (١١) (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : جب زکوٰۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آ کر کہے کہ اپنی زکوٰۃ نکالو تو تمہیں چاہئے کہ تم (فورا) زکوٰۃ نکال لو اور اگر وہ اسکو قبول کرلے تو بہت اچھا ہے اور اگر وہ انکار کر دے تو تو اپنی پیٹھ اس سے پھیر لے اور اس سے بحث نہ کر اور یوں کہہ : اے اللہ ! میں تجھ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں جو اس نے مجھ سے وصول کیا، اور اس شخص کو لعن طعن نہ کر۔
حواشی
(١) في [ك] سقطت: (إذا).
(٢) في [أ، ب]: (جاء).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٤) سقط من: [ص].
(٥) في [ص]: (وإن).
(٦) في [ك] سقطت: (أبي).
(٧) في [ب، هـ]: (فول).
(٨) سقط من: [أ، ب، ح، ك].
(٩) في [هـ]: (احسب).
(١٠) في [ح]: (بياض).
(١١) في [ب]: (يلعنه).