حدیث نمبر: 10083
١٠٠٨٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن (خليد) (١) بن جعفر قال: سمعت أبا إياس يحدث عن أم الحسن أنها كانت عند أم سلمة زوج النبي ﷺ فجاء (نساء) (٢) مساكين فقالت: أخرجوهن، فقالت (أم سلمة) (٣): ما بهذا أمرنا (اللَّه) (٤) (أنبذ بهن) (٥) (بتمرة) (٦) تمرة (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام حسن فرماتی ہیں کہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس تھی ایک مسکین آیا میں نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ اسکو باہر نکال دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا اسکو کھجور میں سے کچھ کھجوریں دیدو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (خالد).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ص، ك].
(٣) سقط في [هـ].
(٤) في [أ، ب، ك، ص] سقطت: (لفظ الجلالة).
(٥) في [ح]: (بياض).
(٦) في [أ، ب]: (بتمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10083
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أم الحسن صدوقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10083، ترقيم محمد عوامة 9914)