حدیث نمبر: 10065
١٠٠٦٥ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة قال: حدثني عون بن أبي جحيفة قال: سمعت المنذر بن جرير يذكر عن أبيه قال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ صدر النهار (فجاء) (١) قوم حفاة (مجتابي) (٢) (النمار) (٣) عليهم السيوف ⦗١٣٨⦘ (والعمائم) (٤) عامتهم من مضر بل كلهم من مضر قال: فرأيت وجه رسول اللَّه ﷺ يتغير تغيرًا لما رأى بهم من الفاقة، قال: ثم قام فدخل (٥) ثم أمر بلالًا (فأذن) (٦) ثم (أقام) (٧) فصلى ثم قال: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾، ثم قرأ إلى آخر الآية: ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾ [النساء: ١]، ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [الحشر: ١٨]: تصدق امرؤ من ديناره (٨) من درهمه (٩) من ثوبه (١٠) من صاع بره (يعني الحنطة) (١١) من صاع تمره (حتى قال: اتقوا النار ولو) (١٢) بشق تمرة) "، قال: فجاء (رجل) (١٣) من الأنصار بصرة قد كادت كفه تعجز عنها بل قد عجزت قال: ثم تتابع الناس حتى رأيت كومين من طعام وثياب قال: فرأيت وجه رسول اللَّه ﷺ يتهلل كأنه مذهبة فقال: "من سن في الإسلام سنة [حسنة أو صالحة فاسق بها بعده كان له (أجرها) (١٤) وأجر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (١٥) من أجورهم شيئًا، ومن (سن) (١٦) (في ⦗١٣٩⦘ الإسلام) (١٧) سنة] (١٨) سيئة (فاستن بها بعده) (١٩) كان عليه (وزرها) (٢٠) ووزر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (٢١) من أوزارهم شيئًا" (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صبح کے وقت حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم حاضر ہوئی جو تنگ دست تھے سفید اور کالے لباس میں ملبوس تھے، ان پر تلواریں تھیں اور عمامے تھے، اکثر کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ میں تو کہوں گا سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا، ان کی تنگ دستی کی حالت کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لوگوں کو نماز پڑھائی، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” اے لوگو ! ڈرو اس رب سے جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا “ پھر آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی، اور اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد۔ کی تلاوت فرمائی۔ (اور حکم دیا کہ) لوگو ! صدقہ کرو دینار میں سے، درھم میں سے، کپڑوں میں سے، گندم میں سے اور کھجور میں سے یہاں تک کہ اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اتنے میں ایک انصاری شخص تھیلی اٹھا کر آیا اور اس کی ہتھیلی اس کے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے، پھر باقی لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کے دو ڈھیر لگ لئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسکو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سونے کی طرح چمکنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ جاری کرے گا، اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اسکو اپنے اجر کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس پر اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے ان لوگوں کے گناہوں میں کمی کئے بغیر “ ، ،

حواشی
(١) في [ب، ص]: (فجاءه).
(٢) في [هـ]: (محتابي).
(٣) في [ص]: (النهار).
(٤) في [أ، ب]: (فالعمائم) وفي [ح، ز، ك]: (أو العمائم).
(٥) في [هـ] زيادة: (المسجد).
(٦) في [أ، ب، جـ، ز]: (وأذن).
(٧) في [أ، ب]: (قام).
(٨) في [هـ] زيادة: (و).
(٩) في [هـ]: زيادة (و).
(١٠) في [هـ]: زيادة (و).
(١١) في [هـ] زيادة: (و).
(١٢) في [ك، ح، أ، ب]: (قال ولو حتى بشق تمرة) وفي [ص، ز]: (وحتى قال ولو بشق تمرة).
(١٣) في [أ، ب]: (رجلًا).
(١٤) في [ك، ح]: (أجره).
(١٥) في [ص]: (ينقص).
(١٦) في [ك، ح]: (استن).
(١٧) سقط من: [ص].
(١٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٩) سقط من: [ص].
(٢٠) في [ح، ك]: (وزره).
(٢١) في [ص]: (ينقص).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10065
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١٠١٧) وأحمد (١٩١٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10065، ترقيم محمد عوامة 9896)