مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها باب: یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
١٠٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن عبد الرحمن بن هلال (العبسي) (١) عن جرير قال: خطبنا رسول اللَّه ﷺ فحثنا على الصدقة فأبطأوا حتى رئي في وجهه الغضب، ثم إنّ رجلًا من الأنصار (جاء) (٢) بصرة فأعطاها، فتتابع الناس حتى (رئ) (٣) في وجهه السرور فقال رسول اللَّه ﷺ: "من سن سنة حسنة كان له أجرها ومثل أجر من عمل بها من غير أن (ينتقص) (٤) من أجورهم شيئًا، ومن من سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من غير أن (ينتقص) (٥) من أوزارهم شيئًا" (٦).حضرت جریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی جسکی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پہ غصہ کے آثار دکھائی دینے لگے۔ پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی لے کر آیا اور وہ تھیلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، باقی لوگوں نے بھی اس انصاری شخص کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پہ خوشی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اچھائی کا راستہ اور طریقہ جاری کرے گا تو اسکو اس کا اجر ملے گا اور جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے ان کا ثواب بھی اسکو ملے گا ان لوگوں کے اجر میں کمی کیے بغیر، اور جو شخص برائی کا طریقہ جاری کرے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہے اور جتنے لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی اسی پر ہوگا ان لوگوں کے گناہ میں کمی کیے بغیر۔