مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا فيه: إذا (واقع) امرأته في رمضان باب: اگر کوئی آدمی روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 10050
١٠٠٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن ابن القاسم (٢) عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عباد بن عبد اللَّه بن الزبير عن عائشة قالت: (أتى رسول اللَّه ﷺ رجل) (٣)، فذكر أنه احترق، فسأله عن أمره فذكر أنه وقع على امرأته في رمضان، فأتي النبي ﷺ (بمكتل) (٤) (يدعى) (٥) ⦗١٣٣⦘ (العرق) (٦) فيه تمر فقال: "أين المحترق؟ " فقام الرجل، فقال (له) (٧): "تصدق بهذا" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عا ئشہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں جل گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حقیقت پوچھی تو اس نے کہا کہ میں رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ کچھ دیر بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے پوچھا کہ وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ آدمی کھڑا ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کو صدقہ کردو۔
حواشی
(١) في [ك]: (أنا). وفي [ص]: (أخبرنا).
(٢) زيادة في [و، أ]: (مثله وقال صم يومًا مكانه).
(٣) في [ص]: (رجل رسول اللَّه ﷺ).
(٤) في [و، هـ]: (بمكيل).
(٥) في [ح، هـ]: (يدعوا).
(٦) في [هـ]: (الفرق).
(٧) سقط من: [أ، ص، ز، ك، و].