مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما قالوا فيه: إذا (واقع) امرأته في رمضان باب: اگر کوئی آدمی روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کر بیٹھے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
١٠٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: هلكت قال: "وما أهلكك؟ " قال: ⦗١٣٢⦘ وقعت على امرأتي في رمضان قال: "أعتق رقبة"، قال: لا أجد. قال: "فصم شهرين". قال: لا أستطيع، قال: "فأطعم ستين مسكينًا". قال: لا أجد قال: "اجلس" فجلس، (فبينا) (١) هو كذلك إذ (أُتي) (٢) رسول اللَّه ﷺ (بعرق) (٣) فيه تمر، فقال له النبي ﷺ: "اذهب فتصدق به" فقال: والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها أهل بيت أفقر إليه منا. قال: فضحك رسول اللَّه ﷺ حتى بدت (أنيابه) (٤) ثم قال: "انطلق فأطعمه عيالك" (٥).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں، میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دو مہینے روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے اسے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور اسے صدقہ کردو۔ اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے زیادہ نادار گھر کسی کا نہیں۔ اس کی یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو ۔