حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ هَذِهِ؟» ، فَقَالُوا: أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهُ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ يَعْنِي الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ»
ترجمہ
… سیدہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے“، یعنی مومن کو کافر سے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ خَالِدٍ فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: بَعْضُ خَالَاتِكِ، فَقَالَ: إِنَّ خالِاتي فِي هَذِهِ الْأَرْضِ لَغَرَائِبُ مِنْ هَذِهِ، قَالُوا: أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ»
ترجمہ
… نبی کریم ﷺ ام خالد کے پاس تشریف لائے تو پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: آپ کی کچھ خالائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس زمین پر میری خالاؤں میں اس جیسی کوئی عجیب و نادر نہیں۔“ لوگوں نے کہا: یہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک ہے وہ ذات جو زندہ کو مردہ سے نکالتی ہے۔“