کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ) کی آزاد کردہ لونڈی
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ الْعَتْكِيَّةُ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْنَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لَأَمَةِ اللهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ سَمِعْتِ أُمَّكِ، تَذْكُرُ فِي صَوْمِ عَاشُورَاءَ شَيْئًا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أُمِّي رُزَيْنَةَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَظِّمُهُ حَتَّى إِنْ كَانَ لِيَدْعُو بِصِبْيانِهِ، وَصِبْيَانِ فَاطِمَةَ الْمَرَاضِيعِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَيَقُولُ: لِأُمَّهَاتِهِمْ: «لَا تُرْضِعُوهُمْ إِلَى اللَّيْلِ» فَكَانَ رِيقُهُ يُجْزِئُهُمْ
ترجمہ
سیدہ رَزینہ رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اس دن (عاشوراء) کی بڑی تعظیم فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دن اپنے نواسوں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دودھ پیتے بچوں کو بلاتے اور ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالتے اور ان کی ماؤں سے فرماتے: ”انہیں رات تک دودھ نہ پلانا۔“ تو آپ ﷺ کا لعاب دہن ہی ان کے لیے کافی ہو جاتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْنَةَ، عَنْ أَمَةِ اللهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ، عَنْ أُمِّهَا رُزَيْنَةَ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وذِرَاعُها فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ: «فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ، وَأَعْتَقَهَا، وَخَطَبَها، وَتَزَوَّجَهَا، وَأَمْهَرَهَا رُزَيْنَةَ»
ترجمہ
روایت ہے کہ (بنو نضیر کے قیدیوں میں سے) رسول اللہ ﷺ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اس حال میں لائے کہ ان کا بازو آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ جب انہوں نے قیدیوں کو دیکھا تو کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ ”تو آپ ﷺ نے ان کا بازو چھوڑ دیا، انہیں آزاد کر دیا، ان سے نکاح کا پیغام بھیجا، ان سے نکاح کیا، اور رزینہ کو ان کے مہر میں (بطور خادمہ) عطا فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْنَةَ، عَنْ أَمَةِ اللهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ، عَنْ أُمِّهَا رُزَيْنَةَ، مَوْلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ زَارَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمًا، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِمْ سَوْدَةُ عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ دُرُوعِ الْيَمَنِ، وَخِمَارٌ، وَعَلَيْهَا نُقْطَتَانِ مِثْلُ الْعَدَسَتَيْنِ فِي مُوقِهَا مِنْ صَبَرٍ وَزَعْفَرَانٍ، قَالَتْ عَلِيلَةُ: وَأَدْرَكْتُ النِّسَاءَ يَتَزَيَّنَّ بِهِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: يَدْخُلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَشَفْنَينَ وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ لأُفْسِدَنَّ عَلَيْهَا زِينَتَهَا الْيَوْمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: اتَّقِي اللهَ يَا حَفْصَةُ، فَقَالَتْ سَوْدَةُ: مَا تَقُلْنَ وَكَانَ فِي أُذُنَيْها ثِقَلٌ فَقَالَتْ: خَرَجَ الْأَعْوَرُ، قَالَتْ: خَرَجَ الْأَعْوَرُ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأَيْنَ أَخْتَبِئُ؟ قَالَتْ: عَلَيْكِ بِالْخَيْمَةِ خَيْمَةٌ لَهُنَّ مِنْ سَعَفٍ يَطْبُخُونَ فِيهَا الْقُدُورَ، فِيهَا نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ، فَذَهَبَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُمَا تَضْحَكانِ لَا تَسْتَطِيعانِ أَنْ تُكَلِّمَاهُ مِنَ الضَّحِكِ، فَقَالَ: «مَاذَا الضَّحِكُ؟» فَأَوْمَأَتا بِأَيْدِيهِمَا إِلَى الْخَيْمَةِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْمَةَ فَإِذَا سَوْدَةُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكِ؟» ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجَ الْأَعْوَرُ، فَقَالَ: «مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجْنَ» فَدَخَلَ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَجَعَلَ يَنْفُضُ عَنْهَا التُّرَابَ، وَمِنَ الْعَنْكَبُوتِ
ترجمہ
روایت ہے کہ ایک خیمے میں مکڑی کا جالا تھا، تو (سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا خوفزدہ ہو کر) وہاں چلی گئیں اور اس میں داخل ہو گئیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو دو عورتیں ہنس رہی تھیں اور ہنسی کی وجہ سے آپ ﷺ سے بات نہیں کر پا رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہنسی کس بات پر ہے؟“ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خیمے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ خیمے میں داخل ہوئے تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کانپ رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کانا (دجال) نکل آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں نکلا، اور وہ ضرور نکلے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے اندر جا کر ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے مٹی اور مکڑی کا جالا جھاڑنے لگے۔