کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مکاتَبہ (لونڈی جس سے مکاتبت کا معاہدہ تھا)
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بَرِيرَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ فِي ثَلَاثَةٍ مِنَ السَّنَةِ تُصُدِّقَ عَلِيَّ بِلَحْمٍ فَأَهْدَيْتُهُ لِعَائِشَةَ فَأَبْقَتْهُ حَتَّى دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا هَذَا اللَّحْمُ؟ قَالَتْ: لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا، فَقَالَ: هُوَ عَلَى بَرِيرَةَ صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ قَالَتْ: وكاتَبْتُ عَلَى تِسْعَةِ أوراقٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ شاءُوا عَدَدْتُ لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً، قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِطِي وَاشْتَرِطِي فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ» قَالَتْ: وَأُعْتِقْتُ فَكَانَ لِيَ الْخِيَارُ
ترجمہ
سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور میں نے نو اوقیہ کے بدلے مکاتبت کی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر وہ چاہیں تو میں انہیں ایک ہی بار میں پوری رقم گن کر دے دوں گی، میں نے کہا: وہ کہتے ہیں: مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے شرط رکھی جائے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم شرط رکھو، تم شرط رکھو، ولاء تو اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ کہتی ہیں: چنانچہ میں آزاد کر دی گئی تو مجھے اختیار دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: كُنْتُ أُجَالِسُ بَرِيرَةَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ أَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ فَكَانَتْ تَقُولُ: يَا عَبْدَ الْمَلِكِ إِنِّي لَأَرَى فِيكَ خِصَالًا لَخَلِيقٌ أَنْ تَلِيَ هَذِهِ الْأُمَّةَ فَإِنْ وُلِّيتَهُ فَاحْذَرِ الدِّمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لِيُدْفَعُ عَنْ بَابِ الْجَنَّةِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا عَلَى مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ يُرِيقُهُ مِنْ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ»
ترجمہ
یہ معاملہ (خلافت کی ذمہ داری)، تو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: اے عبدالملک! میں تم میں ایسی خصلتیں دیکھتی ہوں کہ تم اس امت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لائق ہو، اگر تمہیں یہ ذمہ داری ملے تو خون بہانے سے بچنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”آدمی کو جنت کے دروازے سے صرف اتنے سے دور کر دیا جاتا ہے کہ وہ کسی مسلمان کا ناحق ایک پچھنے کے برتن جتنا خون بہائے، پھر وہ جنت کو دیکھ نہیں پاتا۔“