المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
برة خادم أم سلمة أم المؤمنين باب: سیدہ برہ رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ
حدیث نمبر: 20897
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أُمَيْمَةَ، قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ يَبُولُ فِيهِ، وَيَضَعُهُ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَقَامَ فَطَلَبَ فَلَمْ يَجِدُهُ فَسَأَلَ فَقَالَ: «أَيْنَ الْقَدَحُ؟» ، قَالُوا: شَرِبَتْهُ بَرَّةُ خَادِمُ أُمِّ سَلَمَةَ الَّتِي قَدِمَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ احْتَظَرَتْ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ»ترجمہ
سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا، جن سے ان کی بیٹی حکیمہ روایت کرتی ہیں، کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ ﷺ پیشاب کرتے اور اسے اپنے پلنگ کے نیچے رکھ دیتے، ایک بار آپ ﷺ اٹھے اور اسے تلاش کیا تو نہ پایا، تو پوچھا: ”پیالہ کہاں ہے؟“ لوگوں نے کہا: اسے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ برہ نے پی لیا ہے، جو انہیں حبشہ کی سرزمین سے ساتھ لائی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنے آپ کو آگ سے بچانے کا ایک مضبوط حصار بنا لیا۔“