کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا، قعقاع بن ابی حدرد انصاری کی زوجہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُقَيْرَةَ، امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَا هَؤُلَاءِ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا، جو قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! جب تم سنو کہ قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لو کہ قیامت سر پر آ پہنچی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَسِيرَةَ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ بُقَيْرَةَ، امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ، قَالَتْ: إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِخَسْفٍ هَهُنَا قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا، جو قعقاع کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: میں عورتوں کے چبوترے میں بیٹھی تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! جب تم سنو کہ یہاں کے قریب ہی زمین میں دھنسنے کا واقعہ ہوا ہے تو سمجھ لو کہ قیامت سر پر آ پہنچی ہے۔“