حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: أَنَا مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَخَذَ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكُنْتُ جَارِيَةً ناهدًا جَرِيئَةً عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُصَافِحُكَ فَقَالَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ مَا أَخَذَ اللهُ عَلَيْهِنَّ» قَالَتْ: وَنَظَرَ إِلَى خَالَةٍ لِي فِي يَدِهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَاهَا بِهِ، فَقَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللهُ لَكِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ؟» قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنْ كُنْتِ تَعَوَّذْتِ بِاللهِ فَأَلْقِي هَذَيْنِ عَنْكِ» فَعَالَجْتُهُ وَأَعَنْتَهَا عَلَى ذَلِكَ فَنَبَذَتْهُ، فَمَا أَدْرِي حَتَّى السَّاعَةِ مَنْ ذَهَبَ بِهِمَا
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ان عورتوں میں سے تھی جن سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت لی۔ وہ کہتی ہیں: اور میں ایک نوجوان بھرپور لڑکی تھی، آپ ﷺ سے سوال کرنے میں دلیر، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ سے مصافحہ کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، بلکہ ان سے وہی عہد لیتا ہوں جو اللہ نے ان سے لیا ہے۔“ وہ کہتی ہیں: اور آپ ﷺ نے میری ایک خالہ کو دیکھا جن کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ ﷺ نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کر ان کی طرف پھینکی، اور فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تمہارے لیے جہنم کی آگ کے دو کنگن بنا دے؟“ انہوں نے کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اللہ کی پناہ مانگی ہے تو انہیں اتار پھینکو۔“ تو میں نے ان کے ساتھ مل کر کوشش کی اور اس میں ان کی مدد کی تو انہوں نے انہیں پھینک دیا، اور مجھے اب تک معلوم نہیں کہ انہیں کون لے گیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ فِي نِسْوَةٍ مَرَّ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ» قَالَتْ: وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ يَطُولُ أَيْمَتُهَا أَوْ تَعْنُسُ عَنْ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُهَا زَوْجًا ثُمَّ يَرْزُقُهَا مِنْهُ وَلَدًا فَيَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَكَفَّرَهُ فَيَقُولُ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ کچھ عورتوں کے ساتھ تھیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے سلام کیا پھر فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نعمتوں کی ناشکری کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم میں سے کسی کی بیوگی یا اپنے والدین کے ہاں کنواری رہنے کی مدت طویل ہو جائے، پھر شاید اللہ اسے شوہر عطا کرے، پھر اس سے اولاد عطا کرے، تو وہ شوہر کسی وقت غصہ کرے تو وہ بیوی اس کی ناشکری کرتے ہوئے کہے: اللہ کی قسم! میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“