کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوزناد، عبداللہ بن ذکوان، کی عروہ کے واسطے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟، فَقَالَ: «نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورت کو احتلام ہونے پر غسل کرنا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ پانی کا اثر دیکھے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ هُوَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي لَهُ عَلَى مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح ہو، تو میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس اگر میں نے کسی کے حق میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلوا دیا تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے، کیونکہ میں نے دراصل اسے آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔“