المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو الزناد عبد الله بن ذكوان، عن عروة، عن زينب باب: ابوزناد، عبداللہ بن ذکوان، کی عروہ کے واسطے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20106
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ هُوَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي لَهُ عَلَى مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح ہو، تو میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس اگر میں نے کسی کے حق میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلوا دیا تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے، کیونکہ میں نے دراصل اسے آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔“