کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: یحییٰ بن جزار کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَتْ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمَتْ، فَقَالَتْ: أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «أَحْسَنْتِ»
ترجمہ
یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے کچھ صحابہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اے ام المومنین! ہمیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں۔ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ کا ظاہر اور باطن (کھلا اور پوشیدہ حال) برابر تھا۔ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ندامت ہوئی تو فرمانے لگیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کر دیا۔ تو جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو بتا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تیرہ رکعتوں سے وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ کی عمر بڑھی اور کمزوری آئی تو سات رکعتوں سے وتر پڑھنے لگے۔