المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
يحيى بن الجزار، عن أم سلمة باب: یحییٰ بن جزار کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20044
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَتْ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمَتْ، فَقَالَتْ: أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «أَحْسَنْتِ»ترجمہ
یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے کچھ صحابہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: اے ام المومنین! ہمیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں۔ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ کا ظاہر اور باطن (کھلا اور پوشیدہ حال) برابر تھا۔ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ندامت ہوئی تو فرمانے لگیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کر دیا۔ تو جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو بتا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“