کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبداللہ بن حارث بن نوفل کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، جو نہ اس سے پہلے پڑھی تھیں اور نہ اس کے بعد پڑھیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19959
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 295، حدیث 655
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الشَّامِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ تَمَامِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَأَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ، فَيَغْزُوَهُمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، يَغْزُوهُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَلْتَقُونَ فَيَهْزِمُهُمْ» . فَكَانَ يُقَالُ: الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکن اور مقام کے درمیان ایک شخص کے ہاتھ پر بدر کے شرکاء کی تعداد کے برابر لوگ بیعت کریں گے، تو اس کے پاس اہلِ عراق کے جتھے اور اہلِ شام کے ابدال آئیں گے، پھر اہلِ شام کی ایک فوج ان سے لڑنے آئے گی، یہاں تک کہ جب وہ بیداء میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کے خلاف قریش کا ایک آدمی لڑنے آئے گا جس کے ننہیال قبیلہ کلب سے ہوں گے، تو دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوں گی اور وہ انہیں شکست دے گا۔“ چنانچہ کہا جاتا تھا: نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت سے محروم رہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19960
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 295، حدیث 656