کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطاء بن یسار کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَا يَقْضِيَنَّ وَهُوَ غَضْبَانُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی آزمائش میں ڈالا جائے، وہ غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلْيَعْدِلْ بَيْنَهُمْ فِي لَحْظَتِهِ» وَإِشَارَتِهِ وَمَقْعَدِهِ وَمَجْلِسِهِ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی آزمائش میں ڈالا جائے، وہ اپنی نظر، اشارے، نشست اور مجلس میں ان کے درمیان انصاف کرے۔“
وَبِهِ قَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَا يَرْفَعْ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدٍ الْخَصْمَيْنِ، مَا لَا يَرْفَعُ عَلَى الْآخَرِ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی آزمائش میں ڈالا جائے، وہ ایک فریق پر اتنی آواز بلند نہ کرے جتنی دوسرے پر نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقْطَعُوا الْخُبْزَ بِالسِّكِّينِ كَمَا تَقْطَعُهُ الْأَعَاجِمُ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ اللَّحْمَ، فَلَا يَقْطَعْهُ بِالسِّكِّينِ، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْهُ بِيَدِهِ فَلْيَنْهَشْهُ بِفِيهِ، فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”روٹی کو چھری سے نہ کاٹو جیسے عجمی لوگ کاٹتے ہیں، اور جب تم میں سے کوئی گوشت کھانا چاہے تو اسے چھری سے نہ کاٹے، بلکہ ہاتھ سے پکڑ کر منہ سے نوچ نوچ کر کھائے، کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور ہضم میں آسان ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَشُمُّوا الطَّعَامَ كَمَا تَشُمُّهُ السِّبَاعُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھانے کو اس طرح نہ سونگھو جیسے درندے سونگھتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، زوجِ نبی ﷺ، سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھنا ہوا پہلو کا گوشت پیش کیا، آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: فِي بَيْتِي نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَهْلِي» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، قَالَ: «إِنْ شَاءَ اللهُ»
ترجمہ
… یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔“ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی اہلِ بیت میں سے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ۔“