کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدربہ کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ، فَقَالُوا: لَمْ تَحِلَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَحْلَلْتِ فَتَزَوَّجِي مَنْ شِئْتِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا، تو دو آدمیوں نے اسے نکاح کا پیغام دیا، لوگوں نے کہا: ابھی وہ حلال نہیں ہوئی، تو میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم حلال ہو چکی ہو، پس جس سے چاہو نکاح کر لو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ: الْكَهْلُ لَمْ تَحِلَّ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ»
ترجمہ
...اور دوسرا ادھیڑ عمر تھا، تو وہ نوجوان کی طرف مائل ہوئی، اس پر ادھیڑ عمر شخص نے کہا: وہ ابھی حلال نہیں ہوئی، اور اس کے گھر والے موجود نہیں تھے، اور اسے امید تھی کہ جب اس کے گھر والے آئیں گے تو اسے ترجیح دیں گے، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم حلال ہو چکی ہو، پس جس سے چاہو نکاح کر لو۔“