کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبدالعزیز بن رفیع کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسِ بْنِ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، «أَنَّ جَارِيَةً زَوَّجَهَا أَبُوهَا، وَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ رَجُلًا آخَرَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَنَزَعَهَا مِنَ الرَّجُلِ الَّذِي زَوَّجَهَا أَبُوهَا، وَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الَّذِيِ أَرَادَتْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح اس کے باپ نے کسی سے کر دیا تھا، اور وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی تھی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے اس شخص سے الگ کر دیا جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے اس کا نکاح اس شخص سے کر دیا جسے وہ چاہتی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19835
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 256، حدیث 531
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رِزْقُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، فَقَالَ: «تَجِدُ شَهْوَةً؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَلْتَغْتَسِلْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو احتلام دیکھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اسے شہوت محسوس ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ غسل کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19836
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 257، حدیث 532