المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد العزيز بن رفيع، عن أبي سلمة، عن أم سلمة باب: عبدالعزیز بن رفیع کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19835
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسِ بْنِ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، «أَنَّ جَارِيَةً زَوَّجَهَا أَبُوهَا، وَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ رَجُلًا آخَرَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَنَزَعَهَا مِنَ الرَّجُلِ الَّذِي زَوَّجَهَا أَبُوهَا، وَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الَّذِيِ أَرَادَتْ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح اس کے باپ نے کسی سے کر دیا تھا، اور وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی تھی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، چنانچہ آپ ﷺ نے اسے اس شخص سے الگ کر دیا جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے اس کا نکاح اس شخص سے کر دیا جسے وہ چاہتی تھی۔