کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات — ابواسحاق کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «وَالَّذِي تُوُفِيَ نَفْسُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تُوُفِّيَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَعْجَبُ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کی روح قبض کی“ (یعنی نبی کریم ﷺ)، ”آپ ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ فرض نماز کے سوا اکثر نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے، اور آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طُفَيْلٍ، قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، ثنا رَحِيلُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ قَلَّ» ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، اور آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو“ یعنی نبی کریم ﷺ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَتْ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کی روح قبض کی، آپ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، اور آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الدَّارِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّمَا رِزْقُهَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کا سب کچھ خود سمیٹ لے، اس کا رزق تو اللہ عزوجل کے ذمہ ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَاهَا فَلَفَّ رِدَاءَهُ وَوَضَعَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ وَاتَّكَأَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «هَلْ لَكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟» ، قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ، وَأَخَافُ أَنْ يَبْدُوَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي مَا يَكْرَهُ، فَانْصَرَفَ ثُمَّ عَادَ وَقَالَ: «هَلْ لَكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟، إِنْ كَانَ بِكِ الزِّيَادَةَ فِي صَدَاقِكِ زِدْنَا» ، فَعَادَتْ لِقَوْلِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ عَبْدٍ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ تَدْرِينَ مَا تَتَحَدَّثُ بِهِ نِسَاءُ قُرَيْشٍ؟ تَقُلْنَ إِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّمَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا لِأَنَّهَا أَرَادَتْ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ أَحْدَثَ مِنْهُ سِنًّا وَأَكْثَرَ مَالًا، قَالَتْ: فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اپنی چادر لپیٹی اور اسے دروازے کی چوکھٹ پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا لی اور فرمایا: ”ام سلمہ! کیا تمہیں رغبت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سخت غیرت مند عورت ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھ میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھ لیں، تو آپ ﷺ واپس چلے گئے، پھر دوبارہ آئے اور فرمایا: ”ام سلمہ! کیا تمہیں رغبت ہے؟ اگر تمہیں مہر میں زیادتی چاہیے تو ہم زیادہ کر دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی۔ اس پر ام عبد نے کہا: ام سلمہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ قریش کی عورتیں کیا کہہ رہی ہیں؟ وہ کہتی ہیں کہ ام سلمہ نے محمد ﷺ کو اس لیے رد کیا کیونکہ وہ قریش کا کوئی نوجوان چاہتی ہے جو آپ سے کم عمر اور زیادہ مال والا ہو۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح کر لیا۔