حدیث نمبر: 19822
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَاهَا فَلَفَّ رِدَاءَهُ وَوَضَعَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ وَاتَّكَأَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «هَلْ لَكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟» ، قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ، وَأَخَافُ أَنْ يَبْدُوَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي مَا يَكْرَهُ، فَانْصَرَفَ ثُمَّ عَادَ وَقَالَ: «هَلْ لَكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟، إِنْ كَانَ بِكِ الزِّيَادَةَ فِي صَدَاقِكِ زِدْنَا» ، فَعَادَتْ لِقَوْلِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ عَبْدٍ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ تَدْرِينَ مَا تَتَحَدَّثُ بِهِ نِسَاءُ قُرَيْشٍ؟ تَقُلْنَ إِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّمَا رَدَّتْ مُحَمَّدًا لِأَنَّهَا أَرَادَتْ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ أَحْدَثَ مِنْهُ سِنًّا وَأَكْثَرَ مَالًا، قَالَتْ: فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، اپنی چادر لپیٹی اور اسے دروازے کی چوکھٹ پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا لی اور فرمایا: ”ام سلمہ! کیا تمہیں رغبت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں سخت غیرت مند عورت ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھ میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھ لیں، تو آپ ﷺ واپس چلے گئے، پھر دوبارہ آئے اور فرمایا: ”ام سلمہ! کیا تمہیں رغبت ہے؟ اگر تمہیں مہر میں زیادتی چاہیے تو ہم زیادہ کر دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی۔ اس پر ام عبد نے کہا: ام سلمہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ قریش کی عورتیں کیا کہہ رہی ہیں؟ وہ کہتی ہیں کہ ام سلمہ نے محمد ﷺ کو اس لیے رد کیا کیونکہ وہ قریش کا کوئی نوجوان چاہتی ہے جو آپ سے کم عمر اور زیادہ مال والا ہو۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح کر لیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19822
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 253، حدیث 518