کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوحبیب ہے — سیدنا ابوحبیب عنبری رضی اللہ عنہ، ہرماس کے دادا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ قَالَ: ابْنَا النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، ثنا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْدِيهِ عَلَى غَرِيمٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ: «الْزَمْهُ، ثُمَّ لَقِيَهُ بَعْدَ ذَلِكَ» ، فَقَالَ: «يَا أَبَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ»
ترجمہ
سیدنا ابوحبیب عنبری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے مقروض کے خلاف مدد طلب کرنے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے چمٹے رہو۔“ پھر بعد میں آپ ﷺ ان سے ملے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے بھائی! تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْزَمْهُ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ» فَقَالَ: «يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟» وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ إِلَى جَدِّي فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَاخْتَلَعَ عَلَيْهِ حُلَّةً
ترجمہ
سیدنا ابوحبیب عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک مقروض کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس سے چمٹے رہو۔“ پھر دن کے آخری حصے میں آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے بھائی! تم اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟“ اس وقت رسول اللہ ﷺ منبر پر لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے، پھر آپ ﷺ میرے دادا کے پاس اترے اور ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور انہیں ایک جوڑا لباس عطا فرمایا۔