حدیث نمبر: 18988
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْزَمْهُ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ» فَقَالَ: «يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟» وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ إِلَى جَدِّي فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَاخْتَلَعَ عَلَيْهِ حُلَّةً
ترجمہ

سیدنا ابوحبیب عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک مقروض کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس سے چمٹے رہو۔“ پھر دن کے آخری حصے میں آپ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے بھائی! تم اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟“ اس وقت رسول اللہ ﷺ منبر پر لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے، پھر آپ ﷺ میرے دادا کے پاس اترے اور ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور انہیں ایک جوڑا لباس عطا فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 18988
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 309، حدیث 784