کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: عتبہ بن عمیس کی عون بن ابی جحیفہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالُوا: ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: آخَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُبْتَذَلَةٌ فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ، وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِسَلْمَانَ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّ فَأَبَى يَأْكُلُ حَتَّى يَأْكُلَ مَعَهُ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ حَقًّا، أَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ قَالَ: قُمُ الْآنَ إِنْ شِئْتَ، فَقَامَا فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكَعَا، ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِجَسَدِكَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ» ،
ترجمہ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سلمان اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ ایک دن سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لیے آئے تو دیکھا کہ ام درداء میلی کچیلی حالت میں ہیں۔ انہوں نے پوچھا: اے ام درداء! تمہارا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: تمہارے بھائی ابو درداء کو دنیا کی کسی چیز کی کوئی خواہش نہیں، وہ رات کو (نفل) قیام کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں۔ اتنے میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے سیدنا سلمان کا استقبال کیا اور ان کے سامنے کھانا پیش کیا، سیدنا سلمان نے ان سے کہا: کھاؤ۔ انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ سیدنا سلمان نے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ضرور روزہ افطار کرو۔ چنانچہ سیدنا سلمان نے کھانے سے انکار کر دیا جب تک کہ وہ (ابو درداء) ان کے ساتھ نہ کھائیں، تو انہوں نے ان کے ساتھ کھا لیا، پھر سیدنا سلمان ان کے پاس رات گزارنے کے لیے ٹھہرے۔ جب رات ہوئی تو سیدنا ابو درداء (نفل) قیام کے لیے اٹھنا چاہا تو سیدنا سلمان نے انہیں روک دیا، پھر فرمایا: اے ابو درداء! تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہارے رب کا تم پر حق ہے، اور تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے، ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو۔ جب صبح ہونے کے قریب ہوئی تو کہا: اب اگر تم چاہو تو اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں اٹھے اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی، پھر نماز کے لیے نکلے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتانے کے لیے قریب آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے جسم کا تم پر ایک حق ہے، جیسا کہ سلمان نے کہا تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18505
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 112، حدیث 285
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ»
ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابطح میں تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور نماز کی اطلاع دی، پھر راوی نے باقی حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے گزر چکی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18506
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 112، حدیث 286