کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ، بدری صحابی (انہوں نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا تھا)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، " فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنَ الْخَزْرَجِ: مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَسَدِ بْنِ سَارِدَةَ - وَيُقَالُ: سَادِرَةَ، وَيُقَالُ تَزِيدُ بْنُ حُشَيْمِ بْنِ الْخَزْرَجِ - شَهِدَ بَدْرًا، وَقَتْلَ أَبَا جَهْلٍ، وَقَطَعَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ يَدَهُ، ثُمَّ عَاشَ إِلَى زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "
ترجمہ
ابن اسحاق بدر میں شریک ہونے والے انصار، پھر خزرج کے ناموں میں بیان کرتے ہیں: معاذ بن عمرو بن جموح بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن سارِدہ - اور کہا جاتا ہے: سادرہ، اور کہا جاتا ہے: تزید بن حُشیم بن خزرج - نے بدر میں شرکت کی، اور ابوجہل کو قتل کیا، پھر عکرمہ بن ابی جہل نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَاقِفٌ، فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سِوَادِي سَوَادَهُ، حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبَ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَدُورُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟» فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، قَالَ: «هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟» قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: «كِلَاكُمَا قَتَلَهُ» ، فَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَا مُعَاذَ بْنَ عَفْرَاءَ، وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا تو میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، تو میں انصار کے دو کم عمر لڑکوں کے درمیان تھا۔ میں نے تمنا کی کہ کاش میں ان سے زیادہ توانا لوگوں کے درمیان ہوتا۔ تو ان میں سے ایک نے مجھے کہنی ماری اور کہا: چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا سایہ اس کے سائے سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم دونوں میں سے جو پہلے مرنے والا ہو وہ مر جائے۔ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ پھر دوسرے نے بھی مجھے کہنی ماری اور اسی جیسی بات کہی۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ میں نے ابوجہل کو لوگوں میں گھومتے دیکھا، تو میں نے ان دونوں سے کہا: یہی تمہارا وہ آدمی ہے جسے تم تلاش کر رہے تھے۔ تو وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف لپکے اور اسے مار ڈالا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آ کر آپ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا؟“ ان دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کی ہیں؟“ دونوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: ”تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کا سامان (سلب) سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دلوایا۔ یہ (دو نوجوان قاتل) سیدنا معاذ بن عفراء اور سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما تھے۔