کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
ترجمہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ مُعَاذًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكٍ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ غَدًا عَيْنَ تَبُوكٍ، وَإِنَّكُمْ تَأْتُونَهَا لِضُحَى النَّهَارِ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا، حَتَّى آتِي» قَالَ: فَجِئْنَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟» قَالَا: نَعَمْ، فَشَتَمَهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ وَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَهُنَا قَدْ مُلِئَ جَانًّا» هَكَذَا قَالَ الدَّبَرِيُّ ووَهِمَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَدْ مُلِئَ جِنَانًا
ترجمہ
…وہ بیان کرتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے ایک دن نماز مؤخر کی، پھر نکلے اور ظہر و عصر اکٹھی پڑھیں، پھر (اندر) داخل ہوئے، پھر نکلے اور مغرب و عشاء اکٹھی پڑھیں، پھر فرمایا: ”تم لوگ ان شاء اللہ کل تبوک کے چشمے پر پہنچو گے، اور تم وہاں دن چڑھے پہنچو گے، تو جو بھی وہاں پہنچے وہ اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔“ راوی کہتے ہیں: ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے، اور چشمہ جوتے کے تسمے کی مانند تھا، اس میں سے تھوڑا سا پانی رِس رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: ”کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے انہیں ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہا، پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے چشمے میں سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالا یہاں تک کہ کچھ پانی جمع ہو گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی دوبارہ چشمے میں ڈال دیا، تو چشمہ بہت زیادہ پانی کے ساتھ بہنے لگا اور لوگوں نے سیراب ہو کر پانی پیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! عنقریب، اگر تمہیں لمبی زندگی ملی، تو تم دیکھو گے کہ یہ جگہ جنوں سے بھر گئی ہے۔“
دبری راوی نے اسی طرح کہا اور اس میں وہم کیا، دراصل یہ (لفظ) ”قد ملئ جنانا“ (باغات سے بھر گئی) ہے۔
دبری راوی نے اسی طرح کہا اور اس میں وہم کیا، دراصل یہ (لفظ) ”قد ملئ جنانا“ (باغات سے بھر گئی) ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، مَوْلَى حَكِيمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، يَقُولُ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، وَكَانَ لَا يَرُوحُ حَتَّى يُبْرِدَ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ يَنْزِلَ إِذَا أَمْسَى فَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
ترجمہ
…بکر بن سہل کے واسطے سے، عبداللہ بن صالح سے، لیث نے بیان کیا، ہشام بن سعد نے بیان کیا، ابوالزبیر مولی حکیم سے، وہ عامر بن واثلہ ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، اور آپ ﷺ سفر تب تک شروع نہ کرتے جب تک ٹھنڈک نہ ہو جاتی، پھر ظہر و عصر کو اکٹھا کر لیتے، پھر جب شام ہوتی تو اترتے اور مغرب و عشاء کو اکٹھا کر لیتے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حَدَّثَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ حَتَّى رَجَعْنَا»
ترجمہ
…محمد بن عمرو بن خالد حرانی کے واسطے سے، وہ اپنے والد سے، وہ بکر بن مضر سے، وہ عمرو بن حارث سے، وہ ابوالزبیر سے، وہ ابوالطفیل سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا، یہاں تک کہ ہم واپس آ گئے۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا»
ترجمہ
…ادریس بن عبدالکریم حداد کے واسطے سے، وہ عاصم بن علی سے، وہ ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ سے، وہ ابوالزبیر سے، وہ ابوالطفیل سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، اور آپ ﷺ ظہر و عصر کو اکٹھا پڑھتے، اور مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
ترجمہ
…اور عبدالرحمٰن بن سلم رازی، دونوں کہتے ہیں: ہمیں سہل بن عثمان نے بیان کیا، وہ زیاد بن عبداللہ سے، وہ اشعث بن سوار سے، وہ ابوالزبیر سے، وہ ابوالطفیل سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سخت گرمی میں تبوک کی طرف غزوہ کیا، تو آپ ﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
ترجمہ
…دونوں کہتے ہیں: ہمیں محمد بن صباح جرجرائی نے بیان کیا، وہ محمد بن سلمہ سے، وہ ابوعبدالرحیم سے، وہ زید بن ابی انیسہ سے، وہ ابوالزبیر سے، وہ ابوالطفیل سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
ترجمہ
…محمد بن حسین انماطی کے واسطے سے، وہ یحییٰ بن معین سے، وہ عبدالرحمٰن بن مہدی سے، وہ قرہ بن خالد سے، وہ ابوالزبیر سے، وہ ابوالطفیل سے، وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، فَمَا مَسَسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ جِلْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَجَدْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ هَلْ سَمِعْتَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ حِسًّا؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أَخْرُجُ إِلَى النَّاسِ فَأُبَشِّرَهُمْ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ فَلْيَسْتَبِقُوا الصِّرَاطَ»
ترجمہ
…پس میں نے رسول اللہ ﷺ کی جلد سے زیادہ نرم کوئی چیز نہیں چھوئی، اور نہ رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو پائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم نے آج رات کوئی آواز سنی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے بغیر مرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کے پاس نکل کر انہیں یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں رہنے دو تاکہ وہ (نیکی کی) راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔“