کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حسن بصری کی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى السَّعْدِيُّ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَاضِعًا خَدَّهُ عَلَى خَدِّ رَجُلٍ، فَذَهَبْتُ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَادَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ؟» ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِهَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا لَمْ تَفْعَلْهُ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَكَ مِنْ حَدِيثِكَ، فَمَنْ كَانَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: " كَانَ جِبْرِيلُ صَلَّى الله عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ لَمْ يُسَلِّمْ؟، أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَلَّمَ لَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ "، قَالَ: فَمَا قَالَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى كُنْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ يَأْمُرَنِي بِتَوْرِيثِهِ»
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں:) میں گزرا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ صفا پر ایک آدمی کے ساتھ اپنا رخسار اس کے رخسار پر رکھے ہوئے تھے، تو میں چلا گیا، ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی اور فرمایا: ”اے محمد بن مسلمہ! تمہیں سلام کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ اس شخص کے ساتھ ایسا کچھ کر رہے تھے جو آپ نے کسی اور کے ساتھ نہیں کیا، تو میں نے ناپسند کیا کہ آپ کی بات میں مخل ہوں، اے اللہ کے رسول! وہ کون تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، اور انہوں نے کہا: محمد بن مسلمہ کو کیا ہوا کہ اس نے سلام نہیں کیا؟ اگر وہ سلام کرتا تو ہم اس کے سلام کا جواب دیتے۔“ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے آپ سے کیا کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ کہیں وہ مجھے اسے وارث بنانے کا حکم ہی نہ دے دیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ: مَا خَلَّفَكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ؟، فَقَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ ابْنُ عَمِّكَ، يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَيْفًا، فَقَالَ: " قَاتِلْ بِهِ مَا قُوتِلَ بِهِ الْعَدُوُّ، فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَاعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَاضْرِبْهُ بِهَا، ثُمَّ الْزَمْ بَيْتَكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ، قَالَ: خَلُّوا عَنْهُ
ترجمہ
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجا تو انہیں لایا گیا، تو انہوں نے پوچھا: تمہیں اس معاملے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ کے چچازاد بھائی، یعنی رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک تلوار دی تھی اور فرمایا تھا: ”اس سے اسی طرح لڑنا جس طرح دشمن سے لڑا جاتا ہے، لیکن جب تم دیکھو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں تو اسے لے کر کسی چٹان کے پاس جانا اور اسے اس پر مار دینا، پھر اپنے گھر سے لگے رہنا یہاں تک کہ تمہیں مقررہ موت آ جائے یا کوئی غلطی سے چلایا گیا ہاتھ نشانہ بنا دے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں چھوڑ دو۔