المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسن البصري، عن محمد بن مسلمة باب: حسن بصری کی سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: إِنَّ عَلِيًّا بَعَثَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَجِيءَ بِهِ فَقَالَ: مَا خَلَّفَكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ؟، فَقَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ ابْنُ عَمِّكَ، يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَيْفًا، فَقَالَ: " قَاتِلْ بِهِ مَا قُوتِلَ بِهِ الْعَدُوُّ، فَإِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتُلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَاعْمَدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ فَاضْرِبْهُ بِهَا، ثُمَّ الْزَمْ بَيْتَكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ، قَالَ: خَلُّوا عَنْهُحسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجا تو انہیں لایا گیا، تو انہوں نے پوچھا: تمہیں اس معاملے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ کے چچازاد بھائی، یعنی رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک تلوار دی تھی اور فرمایا تھا: ”اس سے اسی طرح لڑنا جس طرح دشمن سے لڑا جاتا ہے، لیکن جب تم دیکھو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں تو اسے لے کر کسی چٹان کے پاس جانا اور اسے اس پر مار دینا، پھر اپنے گھر سے لگے رہنا یہاں تک کہ تمہیں مقررہ موت آ جائے یا کوئی غلطی سے چلایا گیا ہاتھ نشانہ بنا دے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں چھوڑ دو۔