کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوثمامہ حناط کی سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِي ثُمَامَةَ الْحَنَّاطِ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ وَأَنَا مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْمَسْجِدِ مُشَبِّكٌ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَلَا يُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَإِنَّهُ فِي صَلَاةٍ»
ترجمہ
ابو ثمامہ الحناط کہتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھے اس حال میں ملے کہ میں مسجد کی طرف جا رہا تھا اور اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور مسجد آئے تو اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے، کیونکہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنْ أبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أبِي ثُمَامَةَ، قَالَ: لَقِيتُ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ، وَأَنَا أُرِيدُ الْجُمُعَةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ أَسْرَعْتُ نَحْوَهُ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ ضَرَبَ يَدَيَّ وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ يُشَبِّكَ أَحَدُنَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلَاةِ، قُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ تَوَضَّأْتَ وَأَنْتَ تُرِيدُ الْجُمُعَةَ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ
ترجمہ
ابو ثمامہ کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، اس وقت میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف تیزی سے بڑھا، اور میں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، جب میں ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مار کر میری انگلیاں الگ کر دیں، تو میں نے عرض کیا: ابو محمد! یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم میں سے کوئی نماز کی حالت میں اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے۔ میں نے عرض کیا: میں تو نماز میں نہیں ہوں۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے وضو نہیں کیا جبکہ تم جمعہ کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو تم نماز ہی کی حالت میں ہو۔